نقوش
        قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرّجال میں زندگی۔ مرگِ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیات بے مصرف کا ماتم ہو قحط الرّجال۔ ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا، دوسرا زندگی کی ناحق تحمت کا۔ایک سماں حشر کا دوسرا محض حشرات الارض کا۔ زندگی کی تعاقب میں رہنےوالے قحط سے زیادہ قحط الرّجال کا غم کھاتے ہیں۔
        بستی ، گھر اور زبان خاموش۔ دوخت، جھاڑ اور چہرے مرجھائے۔ مٹی، موسم اور لب خشک۔ ندی، نہر اور حلق سوکھے۔ جہاں پانی موجیں مارتا تھا وہاں خاک اڑنے لگی، جہاں سے مینہ برستا تھا وہاں سے آگ برسنے لگی۔ لوگ پہلے نڈھال ہوئے پھر بے حال۔ آبادیاں اجڑ گئیں اور ویرانے بس گئے۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی، نہ کسی کو اس کا یارہ تھا نہ کسی کو اُس کا سراغ۔ یہ قحط میں زمین کا حال تھا۔

        ابر دل کھول کر برسا، چھوٹے چھوٹے دریائوں میں بھی پانی چڑھ آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا جل تھل ہوا کہ سبھی تر دامن ہو گئے۔ دولت کا سیلاب آیا اور قناعت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔ علم و دانش دریا بُرد ہوئے اور ہوش و خرد مئےناب میں غرق۔ دن ہوا و ہوس میں کٹنے لگے اور رات نائو نوش میں۔ دن کی روشنی اتنی تیز تھی کہ آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ رات کا شور اتنا بلند تھا کہ ہر آواز اُس میں ڈوب گئی۔ کارواں نے راہ میں ہی رخت سفر کھول دیا۔ لوگ شادباد کے ترانے گانے لگے۔ گرچہ منزل مراد ابھی بہت دور تھی۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی، نہ کسی کو اس کا یارا تھا نہ کسی کو اس کا سراغ۔ یہ قحط الرّجال میں اہل زمین کا حال تھا۔ شاعر نے جو یہ حال دیکھا تو نوحہ لکھا:

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا  کہ  نہ  دنیا  ہے نہ دیں

دل گرفتگی نے کہا ایسی شادابی اس ویرانی پر قربان جہاں مادرِایام کی ساری دختران آلام موجود ہوں مگر وبائے قحط الرّجال نہ ہو۔ اس وبا میں آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ مردم شماری ہو تو بے شمار، مردم شناسی ہو تو نایاب۔

جناب مختار مسعود صاحب کی کتاب آواز دوست سے ایک اقتباس